فیصل آباد (سٹاف رپورٹر)ہم سول سوسائٹی کی تنظیموں کے اراکین، مزدور یونینوں اور حقوق کے لیے سرگرم اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں، اور خاص طور پر ایگزیکٹو کی طرف سے غیر قانونی اور دباو کے تحت اور خاص طور سے انٹیلی جنس ایجنسیاں کی طرف سے دباو کے ذریعے ججوں سے 'مثبت' فیصلے حاصل کرنے کی مذمت کرتے ہیں ۔ جہاں ہم جناب تصدق جیلانی کی جانب سے انکوائری کمیشن کی سربراہی سے معذرت کرنے کے فیصلے اور آئین پاکستان کے آرٹیکل 184(3) کے تحت سات رکنی بنچ کی تشکیل کا پرتپاک خیرمقدم کرتے ہیں، ہم وفاقی کابینہ کی جانب سے ان الزامات کی تحقیقات کے لیے سابق چیف جسٹس کی سربراہی میں انکوائری کمیشن کی تشکیل کے فیصلے کو سختی سے مسترد کرتے ہیں ۔ہم سمجھتے ہیں کہ آزادانہ اور غیر جانبدارانہ انکوائری تب تک ممکن نہیں ہوسکتی جب تک وہ تمام ریاستی اہلکاروں کو جن کا عدلیہ معاملات میں مداخلت میں ملوث ہونے کا امکان ہے، اور وہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کو کنٹرول کر رہے ہیں ، انہیں انکے عہدوں سے معطل نہیں کیا جاتا۔ .ہم 300 وکلا کے بیان کی مکمل تائید کرتے ہیں اور تمام سماجی تحریکوں بشمول مزدور، خواتین، اقلیتوں، ماہر ماحولیات، تاجروں اور دانشوروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ عدلیہ کے معاملات میں ایگزیکٹو کی غیر قانونی مداخلت کے خلاف آواز بلند کریں کیونکہ اس طرح کی جمہوری طرز حکمرانی، ہمارے آئین کو نقصان پہنچاتی ہے۔ قانون کی حکمرانی اور ہمارے ملک میں دہشت گرد گروہوں کو افزائش گاہ فراہم کر سکتی ہے۔ہم سیاسی جماعتوں سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ اقتدار میں ہیں یا اپوزیشن میں، چھ ججوں کے خط اور انکوائری کمیشن کی تشکیل کے معاملے پر سیاست کرنے سے گریز کریں۔ہم سپریم کورٹ سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ کی طرف سے ہونے والی سماعت کی کارروائی کی براہ راست کوریج نشر کی جائے۔پتن- کولیشن 38( سول سوسائٹی تنظیموں پر مشتمل ) ، بیرسٹر نسیم باجوہ ،سربراہ آواز خلق، لطیف انصاری چیئر مین ،پاکستان لیبر قومی موومنٹ ، عمار علی جان، سیکرٹری جنرل حقوق خلق پارٹی۔

ایک تبصرہ شائع کریں