تحریر:۔۔۔سبین بٹ
فیصل آباد جو کے پہلے لائلپور
کے نام سے جانا جاتا تھا۔ یہ نام اس شہر کے بانی سر جنس بروڈووڈ لائل کے نام پر رکھا
گیا جو کہ سول سروس میں ایک برطانوی ایڈمنسٹریٹر تھے جنہون نے 1877 سے 1892 کا درمیان
پنجاب کے لیفٹننٹ گورنر کے طور پر خدمات انجام دیں لیکن 1977 میں سعودی عرب ک مرحوم
شاہ فیصل کے عزاز میں اس کا نام تبدیل کر دیا گیا۔ یہ بالترتیب کراچی اور لاہور کے
بعد پاکستان کا تیسرا برا شہر ہے اور لاہور ک بعد پنجاب کا دوسرا برا شہر ہے۔ فیصل
آباد پاکستان کے امیر ترین شہروں میں سے ایک ہے، سب سے بڑا صنعتی مرکز اور پنجاب کے
وسیع علاقے کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ فیصل آباد خطے میں اپنے مرکزی مقام اورمنسلک سڑکوں،
اور ہوائی نقل و حمل کی وجہ سے ایک بڑا صنعتی اور تقسیم کا مرکز بن گیا ہے۔ اسے پاکستان
کا مانچسٹر کہا جاتا ہے۔ ضلع فیصل آباد آبادی کے لحاظ سے صوبہ پنجاب کا دوسرا سب سے
بڑا ضلع ہے جو کہ تقریبا آٹھ ملین ہے۔ فیصل آباد کے قیام سے اب تک یہاں سڑکوں کا جال
بچھایا جا چکا ہے اور لائل پور سے فیصل آباد تک کا سفر کچی سڑکوں سے کارپیٹڈ سڑکوں
تک ہونا سفری سہولیات میں آسانیاں پاس فاصلوں میں دوریاں ختم کرنے میں رول ماڈل کی
حیثیت رکھتا ہے۔صنعتی شہر ہونے کے ناطے ٹرانسپورٹ کو مد نظر رکھتے ہوئے اس شہر کو چوڑی
اور خوبصورت کاربیٹ سڑکوں سے عمدہ ڈیزائن کیا گیا ہے۔ فیصل آباد ایک واحد شہر ہے جو
گھنٹہ گھر کے ارد گرد گرفتار ہے۔ جیسے آٹھ بازاروں کے گول اسی طرح پورا فیصل آباد رنگ
روڈ کی شکل میں گرفتار ہوا اپس میں مل جاتا ہے یہی اس شہر کی خوبصورتی کو اجاگر کرتا
ہے۔حکومت پنجاب فیصل آباد کی ٹرانسپورٹ میں جدت لانے کے لیے جدید گاڑیاں متعارف کروا
رہی ہیں جو ماحول دوست ہونگی۔ ٹرانسپورٹ میں تیزی اور ماحول کی سنگینی کو مدنظر رکھتے
ہوئے حکومت نے بیٹریوں پر چلنے والی گاڑیاں متعارف کروانے کا سوچ رکھا ہے۔ وزیراعلی
پنجاب پرویز الہی نے صوبہ پنجاب کی باگ ڈور سنبھالتے ہی ہر شعبہ کی ترقی کی منازل طے
کرنا اولین فرض سمجھ کر آئے اور اجلاس بلا کر محکموں کی کارکردگی اور ان کے مسائل کے
حل بارے فوری اقدامات کرنا شروع کر دیے ہیں۔ وزیراعلی پنجاب پرویز الہی نے عوام کی
خدمت کے لیے سرگرم عمل میں عوامی سہولیات کے لیے دن رات مثبت اقدامات کرتے ہوئے دکھائی
دے رہے ہیں جس کی پہلی حکومتوں میں مثال نہیں ملتی۔ وزیراعلی پنجاب نے پنجاب کی ترقی
کے لئے قومی خزانے کا منہ کھول کر عوام دوست وزیر اعلی پنجاب ہونے کا ثبوت دیا ہے۔
سیکریٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی فیصل آباد کا قیام حکومت نے اس مینڈیٹ کے ساتھ کیا
کہ وہ ضلع فیصل آباد میں بہتر پبلک ٹرانسپورٹ کی فراہمی کو منظم اور یقینی بنائے اور
عام لوگوں کو سفر میں سہولت فراہم کرے۔ واش روم کے ساتھ ساتھ مسافروں کی حفاظت کے لیے
اڈوں پر باقاعدہ طور پر سکیورٹی گارڈز کی موجودگی کو یقینی بنانے پر توجہ دی جا رہی
ہے۔ اس ادارے کے سربراہ محمد سرور بطور سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی بخوبی اپنی
ذمہ داریاں سر انجام دے رہے ہیں۔ یہ ادارہ فزیکلی فٹ گاڑیوں کو فٹنس سرٹیفکیٹ فراہم
کرتا ہے۔ فیصل آباد میں ٹرانسپورٹیشن کا ایک اہم حصہ ہے۔ سیکریٹری آر تی اے فیصل آباد
کی ٹرانسپورٹیشن کے بناؤ کے لیے اپنی بھرپور صلاحیتین بروئے کار لاتے ہوئے گاڑیوں کی
فٹنس کی تصدیق کرکے انہیں سرٹیفکیٹ فراہم کر کے روٹ پر چلنے کی اجازت فراہم کرتے ہیں
تاکہ عوام کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ تمام بسیں سواریوں کی انشورنس
کرواتی ہیں اور سفر کے دوران حادثاتی موت یا زخمی ہونے کی صورت میں بس کے مالکان کی
جانب سے زخمیوں اور انتقال کرنے والے افراد کے اہل خانہ کو ایک مخصوص کلیم دیا جاتا
ہے جو کہ تقریبا تین لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔ اس ادارے کے زیر سایہ شہر کے دو بی
کلاس (جن میں لاری اڈہ اور سٹی ٹرمینل جو کہ جی پی ایس کے نام سے مشہور ہے)، چھے سی
کلاس (جو کہ ہر تحصیل میں میونسپل کمیٹی کے زیر سایہ کام کرتے ہیں) جبکہ سولہ دی کلاس
جن میں تمام نجی بس اڈے مثلا ڈائیوو، کوہستان، نیازی، بلال ٹریولز اور سکائی ویز وغیرہ
شمار ہوتے ہیں۔
حکومت پنجاب کی جانب سے عوامی آگاہی کے لیے مختلف واکس،
کمپین اشتہارات اور خبریں سوشل الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں بھی چلائی جا رہی ہیں۔
اور بسوں پر مختلف معلوماتی اشتہارات چسپاں کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت پنجاب
کی جانب سے ٹریفک کو مستحکم بنانے اور عوام کو آمدورفت میں دشواری سے محفوظ رکھنے کے
لیے صبح 7 سے رات 11 بجے تک شہروں میں بھاری ٹریفک کا داخلہ ممنوع ہے۔گزشتہ چند ادوار
میں حکومتی ہدایات کے مطابق سیکرٹری آر ٹی اے نے بتایا کہ غیر قانونی لینڈرز کو مکمل
طور پر بین کر دیا گیا ہے اور کسی صورت بھی رکشا ٹیکسی ویگن اور دیگر وہیکلز میں استعمال
کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا سلسلہ جاری ہے اور کسی صورت بھی خلاف ورزی کے
مرتکب وہیکلز مالکان و ڈرائیوروں کو معاف نہیں کیا جاتا بلکہ ان کے خلاف مقدمات کا
اندراج کروانے کے ساتھ ساتھ وہیکل کو بھی بند کر دیا جاتا ہے محمد سرور نے انٹرویو
کے دوران بتایا کہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے گرد بھی گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے ان
کے خلاف کارروائی کرکے ان کے چالان اور گاڑیاں تھانوں میں بند کروائی جارہی ہے اور
ماحول میں بگاڑ پیدا کرنے کا باعث بننے والی گاڑیوں کو ہرگز لڑکوں پر آنے کی اجازت
نہیں دی جا رہی تاکہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر ماحول کو خوشگوار بنانے کے ساتھ ساتھ
سموگ سے بھی بچا جا سکے اور آلودگی سے پاک زندگی جینے کا حق حاصل ہو سکے۔ایک سوال کے
جواب میں انہوں نے بتایا کہ موجودہ گنے کے سیزن اور شدید دھند کے باعث حادثات ہونے
کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جس کے پیش نظر ٹرانسپورٹ اتھارٹی کا عملہ مختلف چوکوں شاہرات سمیت
پوری ذمہ داری کے ساتھ ڈیوٹی سرانجام دیتے ہوئے اوور لوڈنگ کرنے والوں کے خلاف فوری
ایکشن لے کر چلانا مرتب کیے جاتے ہیں اور بار بار وارننگ دینے کے باوجود اوورلوڈنگ
سے باز نہ آنے والوں کو جیل کی ہوا کھانا پڑتی ہے۔ موجودہ سیزن میں حکومتی پالیسیوں
کو مدنظر رکھتے ہوئے گاڑیوں کے فرنٹ، بیک اور سائیڈ پر ریفلکٹر لگانے کے ساتھ ساتھ
لائٹس کی لریوں سے کوور کرنا لازم قرار دیا ہے تاکہ دھند کے باعث آگے چلنے والی ٹریفک
اور اس کے جمع کا اندازہ ہو سکے اور حادثات سے یقینی طور پر بچا جا سکے۔اور مستقبل
میں شہریوں کو سستی سفری سہولیات کی فراہمی کے لیے میٹرو بس سروس کو بھی ہو متعارف
کروایا جائے یہ وہ منصوبہ ہے جس کی بدولت شہریوں کو معیاری اور عمدہ سفری سہولیات میسر
آئیں گی۔جلد ہی عملی شکل اختیار کر کے اوم کو مستفید کرے گا۔
۔۔۔///۔۔۔

ایک تبصرہ شائع کریں