ڈالر کے ناپید ہونے سے ایکسپورٹ ٹھپ ہو چکی، چیئرمین اپپٹما حافظ شیخ محمد اصغر قادری
فیصل آباد ( سید جاوید شاہ) چیئرمین اپپٹما حافظ شیخ محمد اصغر قادری نے اپنی
گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ سٹیٹ بینک کے پاس فارن ریزرو 6.6 بلین ڈالر
رہنے سے امپورٹ کی نیو ایل سیزاوپن نہیں ہو رہی جس کی وجہ سے ایکسپورٹ کے را میٹریلRawMaterial کی کمی ہو چکی ہے اور ہماری ایکسپورٹ بھی متاثر ہو
گئی ہے یہ صورتحال ملکی معیشت کے لئے انتہائی خطرناک ہے زیادہ تعداد میں امپورٹ اور
ایکسپورٹ یونٹ بند ہو چکے ہیں اور بے روز گاری بڑھ چکی ہے۔یہ امر بھی باعث تشویشناک
ہے کہ سٹیٹ بنک نے امپورٹ روک دی ہے تاکہ ریزو کم نہ ہوں یہ صورتحال ملکی معیشت کے
لئے انتہائی خطرناک ہے ۔ابھی تک وفاقی حکومت نے اپنی بزنس کمیونٹی کے لئے کوئی جامع
حکمت عملی نہیں اپنائی ۔ٹیکسٹائل انڈسٹریز ٹوٹل امپورٹ کیمیکلز پر ہے اگر کیمیکلز امپورٹ
نہیں ہو نگے تو ایکسپورٹ بھی ختم ہو کر رہ جائے گی ۔موجودہ حالات میں صنعتکاروں اور
کاروباری حضرات کی پریشانیوں میں شدید اضافہ ہو چکا ہے انڈسٹریز بند اور کاروبار تباہ
ہوچکے ہیں ۔ ڈالر کے ناپید ہونے سے ایکسپورٹ ٹھپ ہو چکی ہے حکومت فوری طور پر عملی
اقدامات کرتے ہوئے ایکسپورٹرز کی ادائیگیوں کو یقینی بنائے تاکہ ملکی معیشت کی بحالی
میں مدد مل سکے ۔ انہوں نے کہا کہ روزبروز صنعتکاروں اورکاروباری حضرات کی حالت انتہائی
مخدوش ہوتی جارہی ہے جس کی وجہ سے ایک طرف بے روزگاری کے سائے بڑھتے جارہے ہیں تو دوسری
طرف ملک کاروباراورانڈسٹریز تباہ ہوتی جارہی ہے اگر حکومت نے فوری طورپر موثر اقدامات
نہ کئے تو چند دنوں میں ملکی معیشت تباہ و برباد ہو جائے گی ۔سٹیٹ بینک میں ڈالر کے
فقدان کی وجہ سے ایکسپورٹرز کو ادائیگیاں ناممکن ہوچکی ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت ٹیکسٹائل
انڈسٹریز کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے اپنا بھرپور کردار کرتے ہوئے امپورٹ( نیو ایل
سی) کھولنے کے فوری اقدامات تاکہ ملکی معیشت کا پہیہ چلتا رہے اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری
میں بھی روک تھام ہو سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے
کئے لئے ڈالر کی خرید و فروخت پر فوری پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔وفاقی حکومت کو
فوری طور پر ملک میں ڈالر سمیت غیر ملکی کرنسی کی خرید و فروخت اور ذخیرہ اندوزی میں
ملوث حوالہ ہنڈی کے نیٹ ورک کے خلاف بھی کریک ڈان کرنا ہوگا

ایک تبصرہ شائع کریں