شکریہ وزیراعلی پنجاب چوہدری پرویز الہٰی
محکمہ تعلقات عامہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز
الہٰی کی نظر میں
تحریر وترتیب۔۔۔۔۔محمد اویس عابد،محمد فیصل بیگ
وزیر اعلیٰ پنجاب چوھدری پرویز الہی ڈی جی پی آر کے ملازمین
کے دلوں پر راج کرتے ہیں اور ان کی قیادت پر فخر ہے
چوھدری پرویز الہی نے ڈائریکٹوریٹ جنرل پبلک ریلیشنز کے
افسران و ملازمین کے لیے100 فیصد پی آر الاؤنس منظور کرکے تاریخ ساز فیصلہ کیا ہے
پی آر الاؤنس ملازمین کو معاشی ریلیف فراہم کرنے کے لیے
شاندار اقدام ہے جس کے لئے ڈائریکٹوریٹ جنرل پبلک ریلشنز حکومت پنجاب کے افسران و سٹاف
وزیر اعلیٰ پنجاب چوھدری پرویز الہٰی کے بے حد مشکور ہیں
افسران وسٹاف، چیف سیکرٹری عبداللہ سمنبل، سیکرٹری انفارمیشن
آصف بلال لودھی،ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز راؤ پرویز و دیگر افسران کا شکریہ ادا کرتے
ہیں
شعبہ تعلقات عامہ کسی بھی حکومت محکمہ اور ادارہ کے لیے
لائف لائن کا درجہ رکھتا ہے
قیام پاکستان سے لیکر اب تک ڈی جی پی آر کی ہر دور میں حکومتی
اقدامات کی پرنٹ،الیکٹرانک اور سوشل میڈیا میں تشہیر کسی سے ڈھکی چھپی نہیں
ڈی جی پی آر میں سوشل میڈیا ونگ کو مزید موثر بنایاجائے گا
شعبہ تعلقات عامہ کسی بھی حکومت محکمہ اور ادارہ کے لیے لائف لائن کا درجہ رکھتا ہے جس کی سر گرمیوں کی بدولت حکومت اور ادارہ کی کارگردگی کو اجاگر کر کے بین الاقوامی، قومی اور علاقائی سطح پر بہترین رائے عامہ ہموار ہوتی ہے اس طرح حکومت پنجاب کے شعبہ تعلقات عامہ نے اپنے آغازسے اب تک اپنی اہمیت و افادیت کو منوایا ہے اور عوامی بہبود، تعمیروترقی اور سماجی و معاشی شعبوں میں اصلاحات و اقدامات کو روشن کرنے میں عمدہ کردار ادا کیا ہے۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل پبلک ریلیشنز حکومت پنجاب نے نامساعد حالات اور محدود وسائل میں اپنی شاندار اور موثر سروسز فراہم کی ہیں جن کی حکومتی اور عوامی سطح پر پذیر رائی حاصل ہوئی ہے لیکن چوہدری پرویز الہی کے علاوہ کسی بھی سیاسی حکمران نے ڈی جی پی آر کے دفتر کو مستحکم بنانے اور ملاذمین کی سماجی و معاشی آسودگی کے لیے اقدامات نہیں کیے۔چوھدری پرویز الہی جب بھی اقتدار میں آئے انہوں نے دیگر محکموں کو ترقی سے ہمکنار کے علاوہ ڈی جی پی آر کے ادارہ پر کمال شفقت سے خصوصی توجہ دی۔یہی وجہ ہے کہ اس ادارہ کے ملازمین نے ہمیشہ چوھدری پرویز الہی کو اپنے دکھوں اور مشکلات کا مداوہ سمجھا ہے اور انہوں نے بھی اقتدار اور عدم اقتدار میں اس ادارہ کو کبھی نظر انداز نہیں کیا یہ ان کی ڈی جی پی آر کی سروسز پر بھرپور اعتماد اور شعبہ تعلقات عامہ کی اہمیت کا بہتر ادراک ہے۔ماضی میں ڈی جی پی آر کے دفاتر کو جدید تقاضوں سے ہمکنار کرنے کے لیے ٹیکنالوجی سے آراستہ وسیع وسائل فراہم کرنے کے علاوہ حکومت پنجاب کی صحافی کالونیوں میں افسران و ملازمین کو رہائشی پلاٹ فراہم کر کے ادارہ کے تمام ملازمین کے دلوں میں اعلیٰ مقام بنایا اور ڈھیروں دعائیں حاصل کی ہیں چوھدری پرویز الہی نے بطور وزیر اعلیٰ پنجاب جب سے اقتدار سنبھالا ہے وہ عوامی خدمت کے سفر کی تکمیل میں کوشاں ہیں ماضی کے اقتدار میں ان کے کریڈٹ میں متعدد گرانقدر اور قابل ستائش عوامی و ترقیاتی منصوبوں کا وسیع ذخیرہ موجود ہے۔وہ خلوص نیت سے عوامی خدمت پر بھرپور یقین رکھتے ہیں اور عوام کی فلاح و بہبود ان کی حکومتی پالیسیوں کا مہور ہوتا ہے۔موجودہ اقتدار میں صوبہ کی ترقی و خوشحالی اور عوامی آسودگی کے لیے وہ بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں ہمت، صحت، لمبی زندگی اور دائمی اقتدار سے نوازے تاکہ وہ عوامی خدمت کے میدان میں اپنے باقی ادھورے منصوبے خوش اصلوبی سے مکمل کر سکیں۔وزیراعلی پنجاب چوھدری پرویز الہی نے موجودہ منصب سنبھالنے کے ساتھ اپنے لگائے ہوئے ترقیاتی پودوں کی آبیاری کا فریضہ شروع کیا اور خصوصی طور پر ابلاغ سمیت ڈی جی پی آر کے ادارہ پر اپنی نوازشات کو آگے بڑھایا۔انہوں نے دیرینہ مسئلہ حل کر کے جرنلسٹس ہاؤسنگ سکیم ہربنس پورہ کے بی بلاک کے متاثرین کی امیدوں کو جلاح بخشی اور اس ہاؤسنگ کالونی کی زمین کے خارج انتقال کی بحالی کے لیے قانون سازی کی اور تجاوزات کی وجہ سے بعض پلاٹس پر غیر قانونی قابضین کے خلاف کاروائی اور متاثرین کو متبادل پلاٹس دے کر مایوسیوں کو خوشیوں میں تبدیل کر دیا۔سب سے بڑھ کر چوھدری پرویز الہی نے ڈائریکٹوریٹ جنرل پبلک ریلیشنز کے افسران و ملازمین کے لیے100 فیصد پی آر الاؤنس کی منظوری دے کر اس شعبہ سے اپنی گہری محبت اور وابستگی کا بہترین اظہار کیا ہے جس پر ڈی جی پی آر کے تمام ملازمین بے حد خوشی سے نہال ہیں کیونکہ ماضی میں کسی بھی حکومت نے اس مطالبہ پر کان نہیں دھرے۔وزیر اعلیٰ پنجاب چوھدری پرویز الہی ڈی جی پی آر کے ملازمین کے دلوں پر راج کرتے ہیں اور ان کی فراخ مندانہ قیادت پر فخر ہے۔پی آر الاؤنس ملازمین کو معاشی ریلیف فراہم کرنے کے لیے شاندار اقدام ہے جس کے لئے ڈائریکٹوریٹ جنرل پبلک ریلشنز حکومت پنجاب سمیت ڈائریکٹوریٹ جنرل پبلک ریلیشز فیصل آباد ڈویژنل کے افسران و سٹاف وزیر اعلیٰ پنجاب چوھدری پرویز الہٰی کے بے حد مشکور ہیں۔اس معاملے کو انتہائی موثر انداذ سے صوبائی کابینہ اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے آگے پیش کرنے پر چیف سیکرٹری عبداللہ سمنبل، سیکرٹری انفارمیشن آصف بلال لودھی،ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز راؤ پرویز و دیگر افسران کا شکریہ ادا کرتے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈی جی پی آر کے افسران و ملازمین محدود انتظامی وسائل،موسمی سختیوں اور دیگر مسائل کے باوجود بہترین سروسز فراہم کرنے کے لیے شبانہ روز ہمہ تن مصروف ہیں جو ان کی فرائض سے گہری وابستگی کا مبین ثبوت ہے۔معاشی ریلیف حاصل ہونے سے ہمیں ذہنی و قلبی آسودگی و اطیمنان میسر آئے گا اور وہ مزید دلجمعی سے اپنی پیشہ وارانہ کارگردگی میں اضافہ کر سکیں گے۔وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی عوام کی خدمت کے فریضے کو بخوبی سرانجام دے رہے ہیں۔پی ٹی آئی اور مسلم لیگ قائداعظم کا اتحاد مضبوط ہے اور دراڑیں ڈالنے کی ہر کوشش پہلے کی طرح ناکام ہورہی ہے ۔پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ْ کا اتحاد عوامی خدمت کیلئے ہے کوئی بھی سازش پنجاب کے عوام کی خدمت کے تیز ترین سفر میں رخنا نہیں ڈال سکتی کیونکہ یہ اتحاد اور اعتماد ہمالیہ سے بلند اور پہاڑوں سے مضبوط ہو چکا ہے ۔سازشیں کرنے والے منہ کی کھارہے ہیں ۔حکومت پنجاب کے ترقیاتی تشخص اور عوامی بہبود کے اقدامات کو عوام تک پہنچانے میں ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز ڈیپارٹمنٹ صوبہ بھر میں ایک تحریک کی صورت میں عملدرآمد کرتا ہے۔تقریبا قیام پاکستان سے لیکر اب تک ڈی جی پی آر کی ہر دور میں حکومتی اقدامات کی پرنٹ،الیکٹرانک اور سوشل میڈیا میں تشہیر کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔صوبائی،ڈویژن اور ضلع کی سطح پر وزیراعلی،گورنرپنجاب،صوبائی وزراء، سیکرٹریز،کمشنرز،ڈپٹی کمشنرز ودیگر محکموں کی پروفارمنس اور ان کی لمحہ بہ لمحہ کارکردگی کو اجاگر کرنے کے لئے ڈی جی پی آر سے لیکر ڈائریکٹرز،ڈپٹی ڈائریکٹرز،انفارمیشن آفیسرز،فوٹوگرافرز،کلریکل سٹاف،سٹینوگرافرز،نائب قاصدین وجملہ سٹاف دن ہو یارات،سردی ہویا گرمی،ایمرجنسی کی صورتحال ہو یا عام حالات، عید ہو یا محرم حتی کہ ہر دن ہر وقت ذاتی زندگی، صحت کو ترک کرکے عوام تک معلومات کی رسائی یقینی بنارہے ہیں اسکے باوجود کبھی کبھار یہ بات بھی مشاہدے میں آئی کہ صوبائی محکموں میں ڈی جی پی آر کو وہ مقام حاصل نہیں جو دیگر محکمے لے رہے جن میں خصوصی الاؤنس ومراعات شامل ہیں لیکن موجودہ وزیراعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی جو کہ پہلے ہی عوام دوست لیڈر کے نام سے مشہور ہیں انہوں نے سیکرٹری انفارمیشن آصف بلال لودھی،ڈی جی پی آر راؤ پرویز اختر،ڈائریکٹرز، ڈپٹی ڈائریکٹرز وجملہ افسران کی تحریک پر گذشتہ روز کیبننٹ کمیٹی سے 100% پبلک ریلیشنز الاؤنس کی منظوری دے کر تاریخ ساز فیصلہ کیا ان کا یہ اقدام ڈی جی پی آر کی کارکردگی پر گہرے اطمینان کا اظہار ہے۔ڈویژنل انفارمیشن آفس فیصل آباد میں وزیراعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی کے کارنامے اور سینئر افسران ڈی جی پی آر کی کاوشوں کو سلام پیش کرنے کے لئے تہنتی اجلاس بھی منعقد ہوا جس میں ڈویژن بھر کے افسران وجملہ سٹاف نے شرکت کی۔وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی نے 4ماہ میں جتنا کام کیااتنا گزشتہ حکومتوں نے 10سال میں نہیں کیاچند ماہ میں پنجاب کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے حجم میں 50ارب روپے کا اضافہ کیاہے۔سالانہ ترقیاتی پروگرام کاحجم 685 ارب روپے سے 726ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔پنجاب کی تاریخ میں رواں مالی سال کے 5ماہ کے دوران ترقیاتی فنڈ کے گزشتہ برس کے مقابلے میں 85ارب روپے زائد خرچ ہوئے ہیں،پبلک سیکٹر،یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کی مدت معیاد کیلئے پبلک سیکٹر یونیورسٹیز ایکٹ 2022میں ترامیم کی منظوری ،سرکاری کالجز میں گریڈ 19تک کے پرنسپل کے عہدے پر تقرری کااختیار محکمہ ہائر ایجوکیشن کو دینے کی منظوری دی ۔وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی نے حکومت اور عوام کے درمیان رابطہ کرنے اور حکومتی سرگرمیاں اجاگر کرنے والے محکمہ تعلقات عامہ کے افسران وملازمین کی صلاحیتوں اوردن رات محنت ،لگن سے کام کرنے کے جذبہ کو دیکھتے ہوئے افسروں اور ملازمین کے لئے خصوصی الاؤنس کی اصولی منظوری دے کر دل جیت لئے ہیں۔وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہٰی نے قلیل عرصہ کے دوران پچھلے کئی ادوارکے ادھورے کاموں کو پورا کر کے ہر شعبہ سے وابستہ افراد کے دکھوں کا مداوا کر دیا ہے۔چوہدری پرویز الہٰی نے حکومت میں آتے ہی تمام محکموں کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے فنڈز کی منظوری اوراپ گریڈیشن کو اولین ترجیح سمجھ رکھا ہے اورپنجابی زبان او رکلچر کو فروغ دینے کے لئے ہر ممکن اقدام کرنے اور نظرثانی شدہ پنجاب گورنمنٹ ایڈورٹائزمنٹ پالیسی 2020 میں ترامیم کی منظوری،قومی اخبارات کے ساتھ علاقائی اخبارات کو بھی اشتہارات کا مناسب کوٹہ دینے کا فیصلہ بھی خوش آئند ہے،اشتہارات کے ذریعے ہی عوام کو آگاہی حاصل ہوسکے گی،یہ دور ڈیجیٹل میڈیاکا ہے، ڈی جی پی آر میں سوشل میڈیا ونگ کو مزید موثر بنایاجائے گا۔پنجاب کابینہ نے لاہور میں 300ماحول دوست ہائبرڈ بسیں خریدنے کی منظوری ،300 ماحول دوست بسوں کی خریداری پر 15 ارب روپے خرچ ہوں گے،لاہور میں خواتین کے لئے علیحدہ بس سٹاپ بنائے جائیں گے اور علیحدہ بسیں چلائی جائیں گی،نابینا اوردیگر معذور افراد کے لئے بسوں میں دروازے کے ساتھ خصوصی نشستیں مخصوص کی جائیں گی،پنجاب کابینہ کی بار ایسوسی ایشنز کے لئے 27کروڑ روپے کی گرانٹ کے اجراء کی منظوری ،گجرات کے مین گیٹ سے ملحقہ اراضی کے حصول کے لیے129.49 ملین روپے کے فنڈز کے اجراء کی منظوری،پنجاب انوائرمینٹل ٹربیونل رولز 2012 کے تحت پنجاب انوائرمینٹل ٹربیونل کے ممبر (جنرل) محمد عرفان کی مدت میں توسیع کی منظوری، رحیم یار خان میں مینگو ریسرچ سینٹر کے قیام کے لیے سرکاری اراضی کی نشاندہی اور منتقلی کی منظوری،پنجاب مائننگ کنسیشن رولز، 2002کے تحت معدنی ذخائر کے بہتر استعمال کے لیے لائم سٹون پالیسی کی منظوری ، راک سالٹ یونیفارم پالیسی 2022 اور پنجاب مائننگ کنسیشن رولز 2002 کی متعلقہ دفعات میں ترامیم کی منظوری ، وزیراعلیٰ آفس میں کام کرنے والے سکیورٹی عملے کیلئے اعزازیہ کی منظوری ،IRMNCH اور نیوٹریشن پروگرام پنجاب کی لیڈی ہیلتھ سپروائزرز کو خصوصی الاؤنس اور خصوصی الاؤنس کو 5ہزار روپے تک بڑھانے کی منظوری ،پنجاب کابینہ نے محکمہ سکول ایجوکیشن میں 25ہزار اساتذہ بھرتی کرنے کی منظوری دے دی۔25ہزار اساتذہ کی بھرتی کا عمل جلد ازجلد شروع ،عام آدمی کو فری لیگل ایڈفراہم کرنے کی منظوری بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔کم وسائل رکھنے والے افراد کو پنجاب حکومت فری لیگل ایڈ ،ایک ہزار ملازمتوں کے نئے مواقع ،عام آدمی کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے گی،پنجاب کابینہ نے کاشتکاروں کے لئے سولر پمپس کی فراہمی کے پروگرام کا دائرہ کار صوبہ بھر میں بڑھانے ،سولر پمپس کی فراہمی کے پروگرام سے زرعی شعبہ ترقی کرے گا،کاشتکار کو پانی کی فراہمی یقینی بنا ئی جا سکے گی او رزرعی پیداوار میں اضافہ ہوگا، کچی آبادیوں کے مکینوں کو مالکانہ حقوق دینے کے لئے نئی پالیسی مرتب کرنے کا فیصلہ ،وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی نے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کو جلد ازجلد نئی پالیسی کو حتمی شکل دینے کی ہدایت کی ہے۔پنجاب کابینہ نے2 ارب روپے کا سپورٹس انڈوومنٹ فنڈ ،انٹرنیشنل کوچز کو مقامی کھلاڑیوں کی تربیت کے لئے پاکستان بلایا جائے گا۔انڈوومنٹ فنڈ کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود کے لئے خرچ ہوگا۔پنجاب کابینہ نے کیش مینجمنٹ فنڈ کے قیام ،کیش مینجمنٹ فنڈ کے ذریعے حکومتی سکیورٹیز میں انوسٹمنٹ کی جا سکے گی۔سرمایہ کاری سے حاصل ہونے وا لے پرافٹ کو ڈویلپمنٹ پر خرچ کیاجائے گا۔ڈویژنل ہیڈ کوارٹر میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لئے مخصوص اوورسیز کلب بنایا جائے گا اور اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کی نشاندہی اور حل کے لئے اوورسیز کانفرنس جلد بلائی جائے گی۔ اوورسیز پاکستانیوں کی سہولت کے لئے ون ونڈو ریونیو،نادرا اورایل ڈی اے کاؤنٹرز کو فعال کیاگیاہے اور ڈسٹرکٹ اوورسیز کمیٹیوں کو نوٹیفائی کر دیاگیا ہے۔ اوورسیز پاکستانیوں کی پنجاب کے ہر محکمے میں بھرپور سپورٹ اورمعاونت کریں گے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی اب او پی سی پنجاب سے اپنی اراضی دستاویزات حاصل کرسکتے ہیں- 24/7 ہیلپ لائن کے فنکشنل ہونے سے بیرون ملک مقیم پاکستانی کسی بھی وقت اپنا مسئلہ یا شکایت درج کراسکتے ہیں جس کی بدولت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے حقوق کا ہر صورت تحفظ کریں گے۔ دیار غیر میں بسنے والے پاکستانیوں کے مسائل کے حل کے لئے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے گی۔بیرون ملک بسنے والے پاکستانی ہمارا اثاثہ ہیں پنجاب حکومت سمندر پار پاکستانیوں کے مسائل کے حل کیلئے پرعزم ہے۔ملکی معیشت کی مضبوطی کیلئے اوورسیز پاکستانیوں کی خدمات فراموش نہیں کرسکتے۔ نوجوانوں کودور حاضر کے تقاضوں کے مطابق سکلڈ بیس ٹیکنالوجی سے روشناس کرانا وقت کی ضرورت ہے۔ صوبے میں سکلڈ بیس ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کیلئے نئی یونیورسٹیاں بنائیں گے اور سکلڈ بیس ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کیلئے ہر ممکن اقدام کریں گے۔یونیورسٹیوں کے ٹیچرز کے لئے یکساں پے سکیل متعارف کرانے کا جائزہ لے رہے ہیں اور پے سکیل کو اساتذہ کی کارکردگی کے ساتھ لنک کیا جائے گا۔مائیکروسافٹ کے ساتھ مل کر نوجوانوں کو فری جدید کورسز کرائے جا رہے ہیں۔تعلیم کے میدان میں نئے اور جدید رجحانات کو اپنا کر ہی ہم دنیا کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔دنیا میں ٹیکنالوجی ہر لمحے بدل رہی ہے، ہمیں بھی ہائیر ایجوکیشن کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا، اس ضمن میں پنجاب حکومت مکمل سپورٹ کرے گی۔یونیورسٹیوں میں گورننس کو بہتر بنانے کے لئے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی سفارشات پر عملدرآمد کیا جائے گا۔یونیورسٹیوں کے معاملات درست کرنے کیلئے ایڈہاک ازم کا خاتمہ ضروری ہے۔یونیورسٹیوں میں ریسرچ کے حوالے سے بہت کام کی ضرورت ہے۔اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے وظائف بڑھائے جائیں گے۔ اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کیلئے نئی بھرتیوں کی منظوری دی ہے۔ہائیر ایجوکیشن میں بھرتیاں مکمل میرٹ پر ہوں گی۔ ٹیلنٹڈ اور پروفیشنل اساتذہ وقت کی ضرورت ہے۔یونیورسٹیز میں انڈسٹریل پراڈکٹ ڈویلپمنٹ کیلئے سپیشلائزڈ ڈسپلن متعارف کرائے جائیں گے۔کابینہ اجلاس میں چلڈرن ہسپتال لاہور ، فیصل آباد او رگجرات کے ہسپتالوں میں کینسر ٹریٹمنٹ کے لئے لینر ایکسلیٹر اورملتان میں کینسر کا جدید ترین علاج سائبرنائف ٹیکنالوجی متعارف کرانے کی منظوری دی۔چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ سرگودھا میں کارڈیالوجی کا ہسپتال قائم کریں گے۔ فیصل آباد کارڈیالوجی ہسپتال میں بستروں کی تعداد میں ا ضافہ کیا جائے گا۔پنجاب کابینہ نے نئے ضلع تونسہ میں نئی تحصیل وہوا کے قیام کی منظوری دے دی۔چیچہ وطنی ، رجانہ ، پیر محل، چوک اعظم لیہ تا تونسہ 207کلو میٹر سڑک بنے گی ۔ایم فور چراغاں آباد جھنگ بائی پاس تا شور کوٹ روڈ 103کلو میٹر سڑک بنے گی ۔ دیپالپور تا پاکپتن روڈ 75کلو میٹر طویل سڑک بنائی جائے گی ۔دیپالپور ،پاکپتن تا وہاڑی 150کلومیٹر روڈ تعمیر ہوگی۔سوشل سکیورٹی سکیم کے تحت ملازمین کی اجرت میں اضافے کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں پنجاب ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز (ری کانسٹی ٹیوشن) ایکٹ 2021 کے تحت ایچی سن کالج اور لارنس کالج کو انتظامی ومالی خود مختاری دینے اور ٹی ایچ کیو ہسپتال، فورٹ منرو، ڈسٹرکٹ ڈی جی خان کیلئے پاکستان ایئر فورس کے ساتھ کئے گئے معاہدے کی تجدید کی منظوری دی گئی۔اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹرز کی ترقی کیلئے پنجاب کریمنل پراسیکیوشن سروس (کنڈیشن آف سروس) رولز، 2007 میں ترمیم کی منظوری دی گئی۔ پنجابSentencing ایکٹ 2019 میں ترامیم کی منظوری دی گئی اورکم ازکم سزا کی حد مقررکی گئی۔پنجاب پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے افسر وں اورملازمین کے لئے نظرثانی شدہ تنخواہ اور الاؤنسز کی منظوری دی گئی۔محکمہ توانائی کے پراجیکٹ میں کام کرنے والے 15 ملازمین کے کنٹریکٹ کی مدت میں 6 ماہ کی توسیع کی منظوری دی گئی ۔ ایل ڈی اے ٹربیونل کے صدر کے عہدے کیلئے محمد یار ولانہ کے تقرر کی منظوری دی ۔ پبلک سیکٹر انٹرپرائزز کے اکاؤنٹس کے بارے میں آڈٹ رپورٹ برائے سال 2021-22، صوبائی زکوٰۃ فنڈ اور ضلعی زکوٰۃ کمیٹیوں کی آڈٹ رپورٹس برائے سال 2020-21 اور موسمیاتی تبدیلی ماحولیات اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ آرگنائزیشن پنجاب کی آڈٹ رپورٹس برائے سال 2020-21اور 2021-22 کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں پنجاب ایگزامینیشن کمیشن، لاہور کی سالانہ رپورٹ برائے مالی سال2017-18،پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ کی سالانہ رپورٹ برائے مالی سال2020-21 اور پنجاب دانش سکولز اینڈ سینٹرز آف ایکسی لینس اتھارٹی کی سالانہ کارکردگی رپورٹ برائے سال 2020-21 کی منظوری دی گئی۔پٹرول پمپس اور ایکسپلوسو لائسنسنگ کا اختیار صوبائی حکومت کو تفویض کرنے کی منظوری دی۔وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے صوبے میں سرکاری اخراجات میں کمی کیلئے بڑے فیصلے کرتے ہوئے کفایت شعاری پالیسی پر عملدر آمد کیلئے سخت ہدایات جاری کردی ہیں۔ سرکاری محکموں کیلئے نئی گاڑیاں خریدنے پر پابندی عائد کردی ہے اوروزیراعلیٰ آفس سمیت تمام سرکاری محکموں کے نان ڈویلپمنٹ اخراجات میں 50فیصد کمی کا اعلان کیا ہے۔ کفایت شعاری پالیسی پر من وعن عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔




















.jpeg)
.jpeg)
ایک تبصرہ شائع کریں