فیصل آباد(سید جاوید شاہ )ریلوے پریم یونین کے مرکزی صدر شیخ محمد انور نے مرکزی چیف آرگنائزر خالد محمود چوہدری کے ہمراہ قراقرم ایکسپریس کے ذریعے کراچی ڈویژن کے تنظیمی دورے پر روانگی کے موقع پر ریلوے اسٹیشن پر استقبالی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت کے پاس ملازمین کی تنخواہیں دینے کیلئے پیسے نہیں ہیں تو ارکان اسمبلی،وزراء،سینیٹرز،گورنرزکی تنخواہیں بھی بند کی جائیں۔ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی بروقت نہ کی گئی تو پورے ملک میں ریل کا پہیہ جام کردیں گے۔مرکزی راہنما جمیل ملک،ریاض آسی،خرم جاوید،فریدوارثی بھی ان کے ہمراہ دورہ پر کراچی جارہے ہیں۔پریم یونین کے کارکنوں نے ڈویژنل نائب صدر ظہیرالدین بابر،زونل صدر محمدآصف جاوید،ساجدعمران،محمدکاشف،بابر نواز،نورالدین،یونس بٹ،اقبال پینٹرودیگر کی قیادت میں مرکزی قائدین کا استقبال کیا۔اس موقع پر کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے شیخ محمد انور نے کہا کہ حکومتی ایوانوں میں بیٹھے ظالم جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کوملک کے ملازمین کے مسائل کا نہ احساس ہے اور نہ ہی وہ ان مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں،جھونپڑیوں میں رہنے والوں کو حقوق سے محروم رکھا گیا تو وہ بنگلوں میں رہنے والوں کو بھی چین سے نہیں رہنے دیں گے۔انہوں نے کہا کہ ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف کے دباؤپر سرمایہ داروں کو نوازنے کے لئے ریلوے کی نجکاری کی کوششیں کی جارہی ہیں، پریم یونین ماضی کی طرح ان تمام سازشوں کو ناکام بنا دے گی، ریلوے ملازم منظم اور متحد ہو کرمتحرک ہو چکا ہے۔انہوں نے کہاہے کہ ریلوے چارٹرڈ کے مطابق ریلوے ایک کمرشل نہیں بلکہ فلاحی ادارہ ہے،فلاحی ادارے نفع نقصان کی بنیاد پر نہیں بلکہ عوام کی فلاح و بہودکے لئے چلائے جاتے ہیں جن کی کارکردگی حکومتی مالی سپورٹ پر ہی ممکن ہوتی ہے،جس طرح موٹروے،میٹرو،اورنج ٹرین،سرکاری تعلیمی ادارے اور ہسپتال جیسے ادارے حکومت کی مالی مدد سے عوام کو سہولیات فراہم کرتے ہیں،اسی طرح ریلوے بھی پاکستان کا سب سے بڑاعوام کو سستی سفری سہولیات فراہم کرنے والا ادارہ ہے۔ سابقہ حکومتوں نے اس ادارے کو اپنے سیاسی مفادات اور فلاحی ادارے کے طور پر استعمال کیا ہے لیکن جس مالی مدد کی ریلوے کو حکومت سے ضرورت تھی ریلوے کو اس سے محروم رکھا گیا۔ریلوے کو فوری طور پرپاؤں پر کھڑا کرنے کی ضرورت ہے۔ریلوے کو مضبوط کر دیا گیا تو حکومت بھی معاشی طور پر مضبوط ہوگی۔

ایک تبصرہ شائع کریں