”خطابت کا سورج“حضرت مولانا محمد ضیاء القاسمی ؒ

فیصل آباد(پ ر) وائس چیئرمین مرکزی علماء کونسل پاکستان صاحبزادہ پیر جی خالد محمود قاسمی نے مسجد قاسمیہ جبکہ شیخ الحدیث مولانا محمدیوسف فاروقی نے مرکزی جامع مسجد گول فیصل آباد میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئےعالم اسلام کی عظیم شخصیت اور خطابت کے بے تاج بادشاہ حضرت مولانا محمد ضیاء القاسمی ؒ کی دینی ملی و قومی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ آپ خوش اخلاق خوش مزاج باغ و بہار طبیعت کے مالک اور زندہ دل و خوش مزاجی کا حسین مرقع تھے مذہبی و سیاسی حلقوں سمیت تمام مسالک میں آپ انتہائی قابل احترام تھے آپ کو بر صغیر میں ترجمانِ دیوبندکی حیثیت حاصل تھی مولانا ضیاء القاسمی ؒ خطیب ہی نہیں بلکہ خطیب گر تھے، آپ نے اپنے چالیس سالہ دورِ خطابت میں لاکھوں انسانوں کو شرک و بدعت کے اندھیروں سے نکال کر ان کے سینوں میں توحید کی شمعیں روشن کیں،آپ کی زندگی جہدِ مسلسل سے عبارت ہے بچپن سے لے کر جوانی تک اور جوانی سے وفات تک آپ کی زندگی درسِ توحیداور مختلف فتنوں کے تعاقب میں گزری آپ نے جامعہ قاسم العلوم ملتان سے مفکرِ اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ سے امتیازی حیثیت کے ساتھ دورۂ حدیث کیا اورسندِ فراغت حاصل کی اس کے بعد شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خانؒ سے درسِ توحید لیتے ہوئے دورۂ تفسیر کیا اور پھر آپ دارالعلوم دیوبند میں شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے دستِ حق پر چاروں سلسلوں میں بیعت ہو گئے دورانِ تعلیم ہی آپ اپنے استاذ و مربی مولانا لطف اللہ رشیدی ؒ کی زیرِ تربیت خطابت کا آغاز اور نام پیدا کرچکے تھے تحریکِ نظام مصطفی سمیت دیگر تحریکوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیاتقریباً تین سال جیل کاٹی آپ تین بار اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبر رہے، قیامِ امن، اتحاد بین المسلمین کے فروغ، ملی یکجہتی کونسل کی تشکیل اور فرقہ واریت کے خاتمہ میں بھی آپ نے نمایاں کردار ادا کیا۔ آپ گالی اور گولی کے بجائے دلیل اور آئین و قانون پر یقین رکھتے تھے آپ نے خطباتِ قاسمی سمیت درجنوں کتب تصنیف کیں برطانیہ میں سب سے پہلے انٹر نیشنل ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد و آغاز کرنے اور کینیڈا کے ریڈیو سے ختم نبوت کے عنوان پر تقریر و انٹر ویو اور عالم اسلام کی عظیم علمی و روحانی شخصیت اور انٹرنیشنل ختم مؤومنٹ کے بانی وسابق مرکزی امیر فضیلۃ الشیخ حضرت اقدس مولانا عبدالحفیظ مکیؒ سفیرختم نبوت مولانا منظور احمدچنیوٹیؒ انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے موجود ہ مرکزی امیر فضیلۃ الشیخ مولانا ڈاکٹرسعیداحمدعنایت اللہ مدظلہ اورمرکزی سیکرٹری جنرل فضیلۃ الشیخ مولانا ڈاکٹر احمدعلی سراج مدظلہ کے ہمراہ پاکستان سمیت پوری دنیا میں عقیدہ ختم نبوت وناموس رسالت کے تحفظ کیلئے بے مثال کام کیاآخری عمر میں آپ نے ناموسِ صحابہؓ واہل بیتؓ ؓکے تحفظ کیلئے اپنے آپ کو وقف کیا اور ولی کامل پیر طریقت اور اسلامی فن خطاطی کے امام حضرت مولانا سید نفیس الحسینی شاہ ؒ کے ہاتھ پر دوسری بیعت کی آپ نے فیصل آباد میں علمی ادارہ جامعہ قاسمیہ قائم کیا مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ  آخری دنوں میں شوگر گردے اور جگر کے عارضہ میں مبتلا رہے اورآخر کار انہی ظاہری بیماریوں کی وجہ سے 63 سال مسنون عمر میں دارِ فانی کو چھوڑ کر جنت جیسی اعلیٰ جگہ میں پہنچے اور 29 دسمبر 2000ء کی سہ پہر کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے اپنے بیٹوں صاحبزادہ طاہر محمود قاسمی، خالد محمود قاسمی اور صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی سمیت لاکھوں عقیدت مندوں کو اپنی جدائی میں روتا تڑپتا چھوڑ کر یہ”خطابت کا سورج“ غروب ہوگیا۔

    ؎ خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را



0/Post a Comment/Comments