فیصل آباد(سٹاف رپورٹر) پنجاب انفارمیشن کمیشن عوام کو معلومات تک رسائی یقینی بنانے کیلئے سرگرم ہے کسی بھی قسم کی معلومات تک رسائی شفافیت اور احتساب کے فروغ اہم پہلو ہیں ان خیالات کااظہارچیف انفارمیشن کمشنر پنجاب محبوب قادر شاہ نے رسائی آگاہی کمپین کے تحت آرٹی آئی ایکٹ کے بارے میں فیصل آباد پریس کلب میں صحافیوںسے گفتگو کرتے ہوئے کیا ان کا مزید کہنا تھا کہ آئین کا آرٹیکل 19ہر شہری کو اظہار رائے کی آزادی دیتاہے لیکن اس بات کی کمی محسوس کی جارہی تھی کہ پاکستان میں ایک ایسا قانون بھی ہونا چاہیے جس کے تحت عوام مصدقہ انفارمیشن حاصل کرسکیں 1997 میں معراج خالد کے دورے حکومت میں ایک بل پیش کیا گیا لیکن اس پر مزیدکام نہ ہوسکا 2005 میںجب انڈیا نے بھی اپنے ملک میںرائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ نافذ کردیا تو ملک میںصحافیو ںانسانی حقوق کی تنظیموںکے مطالبات کی بنیاد پر 2010 میںچارٹرڈ آف ڈیمو کریسی کے دوران آرٹیکل 19اے کا اضافہ بھی کیاگیا جس سے 2013 میںایک قانون کی شکل دیدی گئی ،دی پنجاب ٹرانسپرنسی رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ ہر شہری کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ کسی بھی سرکاری محکمہ سے معلومات وریکارڈ طلب کرسکتا ہے ،جس کیلئے اسے ایک سادہ کاغذ پر متعلقہ محکمہ کے پبلک انفارمیشن آفیسر کو درخواست دینا ہوتی ہے جس کے تحت وہ 14روز کے اندر مطلوبہ مصدقہ معلومات دینے کا پابند ہوتا ہے ،معلومات نہ فراہم کر نے پر درخواست گزار چیف انفارمیشن کمیشن پنجاب کو اپیل دائر کر نیکا حق رکھتا ہے جس کے نتیجے میں 30یوم میںمطلوبہ معلومات درخواست گزار کو فراہم کردی جاتی ہے ان کا مزید کہنا تھا کہ ساڑھے تین سال میں پندرہ ہزار اپیلوںپر فیصلے کیے گئے ہیں متعدد جرمانے کئے گئے ہیں ،عوام بالخصوص صحافی حضرات کو چاہیے کہ اس قانون کا فائدہ اٹھائیں تاکہ وہ اپنی رائے کو کسی ٹھوس بنیاد پر کھڑا کریں
ایک تبصرہ شائع کریں