فیصل آباد( ) چیئرمین آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن ( اپٹپما) شیخ حافظ محمد اصغر قادری نے کہا ہے کہ ملکی تاریخ میں بعض حکومتوں نے کسی شعبہ میں حقیقی اصلاحات کی کوششیں نہیں کیں بلکہ زبانی جمع خرچ سے کام چلایا ہے ۔ آئی ایم ایف کو کئی دہائیوں سے مسلسل دھوکہ دیا گیا جس کی وجہ سے اسکا رویہ بہت سخت ہو گیا ہے اب حقیقی اصلاحات کے بغیر نہ تو قرض ملے گا اور نہ ہی ملک چلایا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کا فوکس ایف بی آر میں اصلاحات پر رہا ہے اور کئی دہائیوں سے اربوں روپے خرچ کرکے بھی اس میں قابل اطمینان حد تک اصلاحات نہیں کی جا سکی ہیں مگر اب ایسا ممکن نہیں رہا ہے اور اس ادارے میں اصلاحات اور معیشت کی دستاویزبندی مجبوری بن گئی ہے جو موجودہ نظام سے فائدہ اٹھانے والوں کو منظور نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف نئے ٹیکس گزاروں کی تلاش اور ٹیکس چوری روکنے کے بارے میں پاکستان پر دباؤ بڑھا رہا ہے جو ملکی مفادات کے عین مطابق ہے کیونکہ اسکے بغیر ملک کو قرضوں کی دلدل سے نکالنا ناممکن ہے اس صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے سیاسی اورعسکری قیادت نے مل کر ٹیکس نیٹ پھیلانے کے لئے مختلف اقدامات کئے ہیں جو قابل تعریف ہیں اس سلسلے میں تھوک و پرچون فروشوں کو ٹیکس نیٹ میں لانا اور ان پر ٹیکس عائد کرنا سب سے مشکل مرحلہ ہے جس کے لئے سیاسی عزم کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں اس طرح کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں اب کوئی اور آپشن باقی نہیں رہا لاکھوں ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لایا جارہا ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں