کسا نوں کا معاشی استحصال


کسا نوں کا معاشی استحصال

زراعت ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور گندم ہماری سب سے بڑی نقد آور فصل ہے۔جس کیلئے کسان چھ ماہ انتظار کرتا ہے اور پھر اس کی آمد پر ایک خوشی اور جشن کا سماں ہو تا ہے۔گرمی کے شدید تپتے موسم میں بھی کسان جوان جذبوں کے ساتھ بڑی ترنگ میں ہوتاہے۔ مگر جس طرح گندم کے ساتھ امسال سلوک ہوالگتا ہے کہ حکومت دانستہ اس ریڑھ کی ہڈی کو توڑ کر ملکی معیشت کو زمین بوس کر نا چاہتی ہے۔ حکومتوں کی طرف سے ہمیشہ کسان کا استحصال کیا گیا ہے۔کسان اپنا خون پسینہ ایک کر کے جب فصل تیار کرتا ہے۔ عین اس وقت حکومت کی عدم دلچسپی کی وجہ سے مڈل مین کسان کو فصل اونے پونے بیچنے پر مجبور کردیتاہے۔ یہ رویہ بلا تخصیص ہر فصل یعنی مونجی، کماد، گندم اور کپاس وغیرہ کے ساتھ اپنایا جاتاہے۔ جونہی فصل کسان سے خرید کر لی جاتی ہے اس کے ریٹ بڑھانے کیلئے مارکیٹ میں مصنوعی قلت پید اکر دی جاتی ہے اور یوں دوسرا ظلم یہ ہو تا ہے کہ آٹا، چاول وغیرہ غریب کی پہنچ سے بھی باہر ہو جاتا ہے۔غیر زمیندارطبقہ یہ سمجھ رہا ہوتا ہے کہ کاشت کا ر اناج کا ریٹ بڑھا کر بہت زیادہ مہنگی فصل فروخت کر کے بہت زیادہ منافع حاصل کر رہا ہے۔اس بار گندم کی فصل کے سلسلہ میں حکومتی پالیسی ساز مکمل ناکام رہے۔ کسانوں کے ساتھ گھناؤنی سازش کی گئی۔ گندم کی بوائی سے قبل بازار میں آٹے کی قلت پیدا ہوئی۔گندم کی قیمت پانچ ہزار سے بڑھ گئی۔گندم کے ریٹ اور ڈیمانڈ کو دیکھتے ہوئے کسان نے وسیع رقبہ پرگندم کاشت کی۔مہنگے داموں کھاد، ادویات اور ڈیزل استعمال کر کے فصل تیار کی۔ عام سوچ یہ تھی کہ ریٹ شاید چھ ہزار تک چلا جائے۔اِن تمام اشاریوں کو دیکھتے ہوئے کھاد، ادویات وغیرہ بلیک میں ملنا شروع ہوگئیں ۔ کسان نے یہ چیزیں اصل ریٹ سے تقریباً  ڈبل میں خریدیں۔منافع کے حصول کے پیشِ نظر یہ سب قبول کیا۔بڑی امید اور خوشی سے فصل تیار کی۔فصل بڑی اچھی ہوئی۔ فی ایکڑ پیداوارتوقع سے بڑھ کر رہی۔مقامی گندم ملکی ضروریات کیلئے کافی تھی۔نامعلوم مقاصد کے حصول کیلئے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے گندم باہر سے امپورٹ کی۔جس کا جواز ابھی تک قوم کو نہ بتایا گیاہے۔بعدازاں حکومت کا بڑا ہی حیرانی والا کسان کش فیصلہ سامنے آیا کہ زمینداروں سے گندم نہیں خریدی جارہی۔ بیساکھی کی خوشی اس وقت دھری کی دھری رہ گئی جب منڈی میں گندم کا کوئی خریدار ہی نہ رہا۔حالات یہ ہو گئے ہیں کہ لاگت پوری کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔

ایک طرف حکومت کا یہ رویہ کہ جنس کی بے قدری ہو رہی ہے۔ دوسری طرف پچھلے سال حکومتی ادارے کسانوں کے گھر چھاپے ماررہے تھے کہ گندم سٹاک کیوں کی۔ ایک ضلع سے دوسرے ضلع گندم کی منتقلی پر پابندی تھی۔اسی طرح جب حکومت کا ارادہ کسان سے خریداری کا ہو تو زبردستی جنس اٹھا لی جاتی ہے ۔ شوگر مل مالکان کو جب گنے کی ضرورت ہو تو حکومتی حمایت سے زبردستی گنا اٹھایا جاتا ہے۔گڑ بنانے پر پابندی لگا کر بیلنے نہ صرف بند بلکہ سیل کئے جاتے ہیں ۔ کسانوں پر ہر حکم چلا یا جاتا ہے۔ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزراکہ دھان اور کماد کی باقیات جلانے پر بے ضررعزت دار زمینداروں کو ایسے گریبانوں سے پکڑ کر سرکاری گاڑیوں میں ڈال کر تھانوں میں بند کیا جاتا جیسے ڈرگ سمگلر ہوں۔ جب کہ فصل کے فضلات کو ٹھکانے لگا نا مجبوری ہوتی ہے۔ اس کیلئے کوئی طریقہ بھی نہ بتایا گیا۔معیشت کو سہارا دینے والا کسان ایک کھلونا بن چکا ہے۔حکومت جس طرح اس سے کھیلنا چاہتی ہے کھیلتی ہے۔اگر حکومت کسان کو کھادکنٹرول ریٹ پر فراہم نہیں کر سکتی۔زرعی ادویات کی خالص اور سستی فراہمی یقینی نہیں بنا سکتی۔ ڈیزل اور زرعی آلات پر کوئی مناسب سبسڈی نہیں دے سکتی۔مناسب منصوبہ بندی اور سرپرستی کر کے جنس کے ریٹ مقرر نہیں کر سکتی تو اُسے بے گنا ہ کسانوں کا گریبان پکڑنے کا بھی کوئی حق نہیں ہے۔

غریب شہر کب تک ظلم کی زد میں  رہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔امیر شہر سے کہہ دو کہ اپنی حد میں رہے۔

 

0/Post a Comment/Comments