وائز کے زیر اہتمام امن گھرآفس پاکستان لیبر قومی موومنٹ میں یکجہتی مزدور سیمینار کا انعقاد

فیصل آباد(صداقت ناز)وائز کے زیر اہتمام امن گھرآفس پاکستان لیبر قومی موومنٹ میں یکجہتی مزدور سیمینار کا انعقاد کیا گیا اور بعد ازاں ریلی نکالی گئی سیمینار سے آمنہ افضل پروگرام مینجر وائز ' ڈائریکٹر لیبر رائے یسین کھرل ' ڈائریکٹر سوشل سکیورٹی نارتھ احسان الحق'بیرسٹر نسیم باجوہ آف لندن'شہناز اجمل'پروین لطیف'شبانہ بھٹی'نزیراں بی بی'محمد اقبال'رب نواز وٹو' بابا لطیف انصاری چیئرمین پاکستان لیبر قومی موومنٹ نے خطاب کیا سیمینار میں ڈومیسٹک ورکرز'بھٹہ مزدور اور فیکٹری ورکرز' سینکڑوں خواتین کی شرکت سیمینار سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مملکت استحصال کی تمام اقسام کے خاتمہ اور اس بنیادی اصول کی تدریجی تکمیل کو یقینی بنائے گی کہ ہر کسی سے اس کی اہلیت کے مطابق کام لیا جائے گا اور ہر کسی کے کام کے مطابق معاوضہ دیا جائے گا"یہ ہے وہ وعدہ جو مملکت پاکستان نے 1973 کے آئین کے ذریعے پاکستانی عوام کے ساتھ آج سے 51سال پہلے کیا تھا۔اور آج بھی وہی جماعتیں برسرِ اقتدار ہیں، جنہوں نے قوم سے یہ وعدہ کیا تھا ۔نا صرف یہ بلکہ 1973 سے لے کر آج تک زیادہ عرصہ انہی جماعتوں نے حکمرانی کی ہے۔مگر اس کے باوجود استحصال کی نا صرف اقسام میں اضافہ ہوا بلکہ استحصال کی شدت میں اضافہ ہوا۔اس استحصال کا خاتمہ تو نہ ہو سکا البتہ اشرافیہ کی بالادستی اجارہ داری کی شکل اختیار کر گئی۔مرد کے ہاتھوں عورت کا استحصال پہلے بھی ہوتا تھا۔مگر اب اس کی اقسام میں بھی اضافہ ہو گیا مثال کے طور پر آج ڈومیسٹک ورکرز ہوزری اینڈ گارمنٹس اور مختلف جگہوں پر کام کرنے والی خواتین کا روایتی استحصال اسی طرح جاری ہے گھر کارخانوں میں بھی ان کی تنخواہیں مرد مزدوروں کی نسبت کم ہیں اور مزدور عورت کی کمائی پر آج بھی گھرانوں کے مردوں کا قبضہ کر لینے کا رجحان موجود ہے مزید گھریلو کام کاج کس بوجھ پہلے ہی کی طرح عورت کے کندھوں پر ہے 90%مالکان آج بھی سرکاری طے شدہ اجرت کم ازکم اجرت ادا نہیں کرتے سوشل سکیورٹی کارڈ اور ای او بی آئی کی سہولت دینے سے انکاری ہیں مگر ریاستی ادارے مزدور کے ساتھ کیے گیے آئینی وعدہ پر عملدرآمد کرنے کے بجاے مالک کے استحصال کا تحفظ کرتے پاے جاتے ہیں کیونکہ ہماری اسمبلیوں میں اور اقتدار کے ایوانوں میں صرف اشرافیہ کے لوگ موجود ہیں اور مزدورں کا نماہندہ بھی نہیں سرکاری نوکری شاہی اہین اور قانون کے مطابق حکمرانی کی بجاے لوٹ مار اور استحصال کا حصہ ہے چاہے نجکاری کا معاملہ ہو یا ٹیکسوں کی بھرمار چاہے گیس اور بجلی کے بل ہوں مختلف طریقوں عوام کی کمائی جو پہلے ہی استحصال کے باعث مسلسل گراوٹ کا شکار ہے  اس کا بھی ایک بڑا حصہ  بلوں کے زریعہ سے لوٹ لیا جاتا ہے اور اس لوٹ کھسوٹ میں عالمی سرمایہ دارانہ نظام برابر شریک ہے ہمارا آج عالمی یوم مئی کے موقعہ پر مطالبہ ہے کہ پاکستان میں ائین کی شق 3کے مطابق سارے نظام کی اصلاح کی جاے یہ تبھی ممکن ہوگا جب تمام پسے ہوے طبقات مشترک جدوجہد کریں گے

0/Post a Comment/Comments