کمشنر فیصل آباد ڈاکٹر عمران حامد شیخ۔۔۔۔۔ ایک نئی سوچ، نیا فیصل آباد

کمشنر فیصل آباد ڈاکٹر عمران حامد شیخ۔۔۔۔۔ ایک نئی سوچ، نیا فیصل آباد

 



تحریر : شفقت حسین عادل ( انفارمیشن آفس)


فیصل آباد جو کہ پاکستان کا مانچسٹر کہلاتا ہے، ایک عرصے سے انتظامی سستی، ٹوٹی سڑکوں اور صفائی کے مسائل سے دو چار رہا لیکن کمشنر فیصل آباد ڈویژن ڈاکٹر عمران حامد شیخ کی تعیناتی کے بعد عوام میں یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ اب فیصل آباد کی تقدیر بدل رہی ہے۔ ان کا فیلڈ میں نکل کر کام کرنے کا انداز، ڈیڈ لائن کلچر اور عوام سے براہ راست رابطہ، ماضی کے روایتی دفتری نظام سے بالکل مختلف ہے۔ڈاکٹر عمران حامد شیخ ایک تجربہ کار بیوروکریٹ ہیں۔ اس سے قبل وہ ڈپٹی کمشنر فیصل آباد کے علاوہ مختلف اضلاع میں بھی ڈی سی کے فرائض انجام دینے کے علاوہ ڈائریکٹر جنرل انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی جیسے اہم عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں جہاں انہوں نے صنعتوں کو ماحول دوست بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کئے۔ڈویژنل کمشنر نے فیصل آباد چیمبر آف کامرس میں خطاب کرتے ہوئے واضح اعلان کیا کہ اس سال 30 نومبر تک فیصل آباد ایک جدید شہر کے طور پر ابھرے گا۔ 


اس سلسلے میں تمام محکموں کو باقاعدہ ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ شہر کے پارکوں میں 10 پیڈل پویلین اور 10 کرکٹ ایرینا بھی 30 نومبر2026ء تک مکمل ہو جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے پوری انتظامی مشینری کو متحرک کر دیا ہے تاکہ فیصل آباد کی جامع اور مربوط ترقی پر تیزی سے کام ہو سکے۔ ڈاکٹر عمران حامد شیخ کی زیر صدارت ڈویژنل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کے اجلاس میں کروڑوں روپے کے ڈرینج و سیوریج منصوبوں کی منظوری دی گئی، جو 31 دسمبر 2026ء، 31 مارچ 2027ء اور 30 جون 2027ء تک مکمل کئے جائیں گے۔ 

شہری سب سے زیادہ سڑکوں سے پریشان تھے۔ کمشنر نے ملت روڈ کا خود دورہ کیا، شہریوں سے مل کر مشکلات سنیں اور واسا حکام کو 30 ستمبر 2026ء تک ہر صورت تعمیر و بحالی کی ڈیڈ لائن دے دی۔اسی طرح جڑانوالہ روڈ سے گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی تک سڑک کی بحالی کے لئے بھی ان کے دورے کے بعد ہی ورک پلان پر عمل شروع ہوا۔ 

.

ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کے مطابق عوامی فلاح و بہبود کے پروگرامز پر تفصیلی بریفنگ دی۔انہوں نے ہدایت کی کہ 60 لاکھ آبادی پر مشتمل بڑی تحصیلوں میں صفائی کا ایسا مؤثر نظام نافذ کیا جائے جس سے شہریوں کو واضح بہتری محسوس ہو اور شکایات کا فوری ازالہ ہو، اور فیلڈ سٹاف کی کارکردگی کی مسلسل نگرانی کی جائے۔ 

کمشنر فیصل آباد نے ڈویژنل پبلک سکول میں سالانہ تقریب کے دوران ایک منفرد مقابلے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پبلک سکول کا کوئی طالب علم ''ایک دن کا کمشنر فیصل آباد'' منتخب ہوا تو وہ اپنی جیب سے ایک لاکھ روپے بطور انعام دیں گے۔

اس کے علاوہ انہوں نے ساندل کالج کا دورہ کر کے کہا کہ پبلک سکولوں میں معیاری تعلیم کی فراہمی ان کی اولین ترجیح ہے۔ آئرلینڈ کے نائب سفیر ڈیکلن جانسٹن سے ملاقات میں انہوں نے فیصل آباد کو ملک کا بڑا صنعتی مرکز قرار دیتے ہوئے تجارتی تعلقات کے فروغ اور صنعتوں کو ماحولیاتی تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے پر زور دیا۔ 

ڈاکٹر عمران حامد شیخ کا طرزِ انتظام صرف احکامات جاری کرنے تک محدود نہیں، بلکہ خود فیلڈ میں موجود رہ کر کام مکمل کروانا ہے۔ اسی لئے فیصل آباد کی عوام میں یہ احساس پیدا ہوا ہے کہ ان کی تعیناتی نے واقعی شہر کی تقدیر بدلنے کی بنیاد رکھ دی ہے۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو 30 نومبر 2026 ء تک فیصل آباد واقعی ایک جدید، صاف اور ترقی یافتہ شہر کے طور پر سامنے آئے گا۔

۔۔۔////۔۔۔

0/Post a Comment/Comments